برطانیہ نے امریکا کو ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے، جس سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ خاص طور پر آبنائے ہرمز میں خطرات سے نمٹنے کے لیے کیا گیا ہے، اور برطانیہ نے امریکا کو ایران پر حملوں کیلئے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت 2026 اس خبر کا خلاصہ بھی پیش کرتا ہے۔
اس سے قبل برطانیہ صرف محدود دفاعی مقاصد کے لیے امریکی افواج کو اپنے اڈوں کے استعمال کی اجازت دیتا تھا، جیسے ایران کو ایسے میزائل فائر کرنے سے روکنا جو برطانوی مفادات کے لیے خطرہ بن سکتے تھے۔
تاہم حالیہ وزارتی اجلاس میں اس اجازت کے دائرہ کار کو بڑھا دیا گیا ہے، جس کے تحت اب امریکی افواج برطانوی اڈوں کو آبنائے ہرمز میں جہازوں کے تحفظ کے لیے بھی استعمال کر سکیں گی، جو عالمی تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی اسٹیلتھ طیارہ ایف-35 ایران میں ہنگامی لینڈنگ پر مجبور
ڈاؤننگ اسٹریٹ نے واضح کیا ہے کہ برطانیہ خود ان حملوں میں براہِ راست شامل نہیں ہوگا اور اس کا مؤقف اب بھی یہی ہے کہ تنازع کا پرامن حل تلاش کیا جائے۔ حکام نے زور دیا کہ یہ اقدام صرف دفاعی نوعیت کا ہے اور سمندری سکیورٹی کو بہتر بنانے کے لیے ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ برطانیہ کو یہ قدم پہلے اٹھانا چاہیے تھا۔ دوسری جانب برطانوی حکام نے کشیدگی کم کرنے اور جلد از جلد امن کے قیام پر زور دیا۔ مجموعی طور پر، برطانیہ نے امریکا کو ایران پر حملوں کیلئے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت 2026 خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عالمی اہمیت کے مسائل کو ظاہر کرتا ہے۔